آنے والے دن
آنے والے دنوں کی حرارت کو محسوس کرتے ہوئے
میں اگر یہ کہوں
کل مری آرزوؤں کی شاخوں پہ خوشبو
بکھر جائے گی نرم پھولوں کی صورت میں
اور چاندنی مسکرائے گی بدلی کی چنری پہن کر
تو مجھ کو یہ محسوس ہوتا ہے، میں نے
ہوا کو پکڑنے کی کوشش میں نا کام پایا ہے خود کو
یہ ناکامیاں بھی
ازل سے مری ہم سفر ہیں،
کہ جب میں
زمیں پر کوئی پیڑ بن کر اگا تھا
یہ کہنا کہ گھر سے میں بے آبرو ہو کے نکلا تھا اک دن
سراسر غلط ہے
کہ میں آج ہی گھر کے آنگن میں بیٹھا ہوا
پھیلے آکاش کو دیکھتا ہوں
جہاں روشنی ہے
جہاں میرے دل کا سکوں چاند بن کر کھلا ہے
مگر آنے والے دنوں میں تو بارش ہے، طوفان ہیں، آندھیاں ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.