اندیشہ
ہاتھ میں بیتی بات کی لرزش
لاکھ بچاؤں کھنکے برتن
گھٹی گھٹی مجبوری میری
سب کے طعنے دل کی کھولن
امیدوں کی راکھ میں دہکیں
جلتی حسرت کے انگارے
رخ پر ڈھلکے عرق ندامت
کہنا چاہوں چپ رہ جاؤں
ہائے اس کی کھوئی محبت
گال پہ کاجل پھیلا پھیلا
محرومی سے اجڑی صورت
رسوائی سے آنچل میلا
چپکے چپکے آنسو پونچھوں
نہیں نہیں میں روتی کب ہوں
اس کا مجھ کو دھیان کہاں ہے
مجھ پر تم انگلی نہ اٹھاؤ
یہ گیلی لکڑی کا دھواں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.