جب توپیں گرجتی ہیں
جب توپیں گرجتی ہیں
تو صرف سپاہی نہیں مرتے
گھروں کی چھتیں بھی ٹوٹتی ہیں
کتابوں کے ورق جلتے ہیں
اور خواب وہ تو راکھ ہو جاتے ہیں
ہم جو سرحد کے ادھر رہتے ہیں
یا ادھر
ہمارا خون ایک سا بہتا ہے
زبانیں چاہے الگ ہوں
درد کا ترجمہ نہیں کرنا پڑتا
ماں کا بیٹا
جب جنگ میں جاتا ہے
تو مذہب قوم پرچم سے پہلے
ایک انسان ہوتا ہے
لیکن فیصلے
وہ میزوں پر ہوتے ہیں
جہاں خون کی قیمت
سیاست کے وزن سے ناپی جاتی ہے
بچوں کے کھلونے
بندوقوں کی آواز میں ڈوب جاتے ہیں
اور صلح
بس ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے
ہم نے دیکھا ہے
امن کی ہر کوشش
بارود کی ایک چنگاری سے جلتی ہے
اور جلتے ہیں
ہم لوگ بیچ میں ہم لوگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.