پشیمانی
سوچا تھا
کچھ بھی ہو
کچھ بھی ہوتا رہے
کوئی ترسے
کوئی دل غموں کی تپش میں سلگتا رہے
کوئی نم آنکھ
سوکھے ہوئے ہونٹ حسرت کا کاسہ لئے
بادلوں کو تکے
کوئی لاغر بدن پیرہن کے پھٹے تاروں سے جھانکتی ہڈیاں
سردیوں کی ٹھٹھرتی ہوئی رات
فٹ پاتھ پر کاٹ دے
کچھ بھی ہو کچھ بھی ہوتا رہے
ہم سے ان سب کا کیا واسطہ
ہم ہنسیں
بجلیاں چاہے اس شہر کے گھر کے گھر پھونک دیں
راستے ہر سحر ایک کچلی ہوئی نعش کا خون چاٹا کریں
ہم ہنسیں
خوش رہیں
ہم سے ان سب کا کیا واسطہ
آج ہنسنے کی ناکام کوشش میں یہ
یک بیک کیا ہوا
کوئی مجھ سے مرا اپنا پن چھین کر لے گیا
لوگ کہتے ہیں اس قتل میں
میرا ہی ہاتھ تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.