شر کا احساس ہو کہ خیر ملے
خود کو دیکھوں جو چشم غیر ملے
مجھ کو حاصل ہو ایسی بیداری
لمحہ لمحہ کروں نگہ داری
ظاہری حال سے گزر جاؤں
تہہ میں احساس کی اتر جاؤں
اپنے چہرے کے سارے رخ کھولوں
آئنے کی طرح سے سچ بولوں
سچ نہ جب شکل اپنی دکھلائے
جھوٹ جب سچ کے روپ میں آئے
میرے ہاتھوں میں ہو مرا دامن
کوئی مجھ سا نہ ہو مرا دشمن
صبح سے اپنی گھات میں بیٹھوں
جال پھیلا کے رات میں بیٹھوں
نکتہ چیں اپنا ایسا بن جاؤں
اپنی جھوٹی خودی کو جھٹلاؤں
نور کو اپنے تیرگی سمجھوں
اپنی نیکی کو بزدلی سمجھوں
زعم ہے یہ جو پارسائی کا
یہ بھی حیلہ ہے خود نمائی کا
رنگ جو عجز میں سرور کا ہے
عکس یہ بھی مرے غرور کا ہے
ہر بلندی میں میری پستی ہے
میرا ایثار خود پرستی ہے
یوں ہی تجزیہ خیال کروں
اپنے ہر حال پر سوال کروں
نفیٔ کامل جب اپنی ذات کی ہو
کوئی صورت مرے ثبات کی ہو
اے خدا مجھ کو وہ بصیرت دے
اور بصیرت کے ساتھ ہمت دے
جو مری دید سے نہ شرمائے
جو مجھے دیکھ کر نہ گھن کھائے
جو فرشتہ نہ دیوتا مانے
جو مجھے صرف آدمی جانے
جو مری حرص کو قناعت کو
میری نیکی مری خباثت کو
میری نفرت مری محبت کو
میرے ہر جھوٹ ہر صداقت کو
پائے تحقیر سے نہ ٹھکرائے
میری مٹی پہ رحم فرمائے