Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شر کا احساس ہو کہ خیر ملے

سلیم احمد

شر کا احساس ہو کہ خیر ملے

سلیم احمد

MORE BYسلیم احمد

    شر کا احساس ہو کہ خیر ملے

    خود کو دیکھوں جو چشم غیر ملے

    مجھ کو حاصل ہو ایسی بیداری

    لمحہ لمحہ کروں نگہ داری

    ظاہری حال سے گزر جاؤں

    تہہ میں احساس کی اتر جاؤں

    اپنے چہرے کے سارے رخ کھولوں

    آئنے کی طرح سے سچ بولوں

    سچ نہ جب شکل اپنی دکھلائے

    جھوٹ جب سچ کے روپ میں آئے

    میرے ہاتھوں میں ہو مرا دامن

    کوئی مجھ سا نہ ہو مرا دشمن

    صبح سے اپنی گھات میں بیٹھوں

    جال پھیلا کے رات میں بیٹھوں

    نکتہ چیں اپنا ایسا بن جاؤں

    اپنی جھوٹی خودی کو جھٹلاؤں

    نور کو اپنے تیرگی سمجھوں

    اپنی نیکی کو بزدلی سمجھوں

    زعم ہے یہ جو پارسائی کا

    یہ بھی حیلہ ہے خود نمائی کا

    رنگ جو عجز میں سرور کا ہے

    عکس یہ بھی مرے غرور کا ہے

    ہر بلندی میں میری پستی ہے

    میرا ایثار خود پرستی ہے

    یوں ہی تجزیہ خیال کروں

    اپنے ہر حال پر سوال کروں

    نفیٔ کامل جب اپنی ذات کی ہو

    کوئی صورت مرے ثبات کی ہو

    اے خدا مجھ کو وہ بصیرت دے

    اور بصیرت کے ساتھ ہمت دے

    جو مری دید سے نہ شرمائے

    جو مجھے دیکھ کر نہ گھن کھائے

    جو فرشتہ نہ دیوتا مانے

    جو مجھے صرف آدمی جانے

    جو مری حرص کو قناعت کو

    میری نیکی مری خباثت کو

    میری نفرت مری محبت کو

    میرے ہر جھوٹ ہر صداقت کو

    پائے تحقیر سے نہ ٹھکرائے

    میری مٹی پہ رحم فرمائے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے