غم زدہ ہے فسانہ مرا
غم زدہ ہے فسانہ مرا
جل چکا آشیانہ مرا
ان سے امید ایسی نہ تھی
لوٹ لیں گے خزانہ مرا
اس جہاں کو گوارہ نہ تھا
ان کے گھر آنا جانا مرا
رو رہا ہے تو اب کس لیے
تب تو کہنا نہ مانا مرا
آج کل میرا دشمن ہے جو
دوست ہے اک پرانا مرا
مجھ کو صدیوں رلاتا رہا
ایک پل مسکرانا مرا
راس دنیا کو آیا نہیں
کھل کے ہنسنا ہنسانا مرا
لگ رہا ہے ترے شہر سے
اٹھ گیا آب و دانہ میرا
عشق کے پھیر میں تو نہ پڑ
مجھ سے کہتا تھا نانا مرا
اے کبیراؔ مرے بعد بھی
جگ رہے گا دوانا مرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.