صدیوں سے لہو میں تر رہا ہوں
صدیوں سے لہو میں تر رہا ہوں
تصویر میں رنگ بھر رہا ہوں
برداشت ہی کاش مجھ کو کر لیں
میں جن کو قبول کر رہا ہوں
وہ گانٹھ جو انگلیوں سے کھل جائے
دانتوں سے اسے کتر رہا ہوں
باہر سے ہوں ثابت و سلامت
اندر سے مگر بکھر رہا ہوں
ہے مجھ سے بھی وہ بڑا اداکار
جس کے لیے سوانگ بھر رہا ہوں
جو درد ابھی اٹھا نہیں ہے
محسوس اسے بھی کر رہا ہوں
ندی کی طرح چڑھا تھا راشدؔ
دریا کی طرح اتر رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.