Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

صدیوں سے لہو میں تر رہا ہوں

راشد مفتی

صدیوں سے لہو میں تر رہا ہوں

راشد مفتی

MORE BYراشد مفتی

    صدیوں سے لہو میں تر رہا ہوں

    تصویر میں رنگ بھر رہا ہوں

    برداشت ہی کاش مجھ کو کر لیں

    میں جن کو قبول کر رہا ہوں

    وہ گانٹھ جو انگلیوں سے کھل جائے

    دانتوں سے اسے کتر رہا ہوں

    باہر سے ہوں ثابت و سلامت

    اندر سے مگر بکھر رہا ہوں

    ہے مجھ سے بھی وہ بڑا اداکار

    جس کے لیے سوانگ بھر رہا ہوں

    جو درد ابھی اٹھا نہیں ہے

    محسوس اسے بھی کر رہا ہوں

    ندی کی طرح چڑھا تھا راشدؔ

    دریا کی طرح اتر رہا ہوں

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے