غم حیات کے شعلے نہ سرد ہوں گے کبھی
غم حیات کے شعلے نہ سرد ہوں گے کبھی
سکوں شناس نہ ہم اہل درد ہوں گے کبھی
نظر میں ہیں لب و عارض کی سرخیاں جب تک
وفا پرستوں کے چہرے نہ زرد ہوں گے کبھی
وہ گرمیاں ترے انفاس نے عطا کی ہیں
ہمارے دل کے الاؤ نہ سرد ہوں گے کبھی
وہ جن کے قدموں کی رہتی ہے منزلوں کو تلاش
جہاں میں ایسے بھی کچھ رہ نورد ہوں گے کبھی
یقیں نہ ہو تو ہم اہل شعور مر جائیں
یہ زرد زرد کنول لاجورد ہوں گے کبھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.