آنکھ تم کو ہی جب نہ پائے گی
آنکھ تم کو ہی جب نہ پائے گی
عید کیسے منائی جائے گی
چاند کافی نہیں ہے میرے لیے
تیرے آنے پہ عید آئے گی
زندگی لاکھ توڑ کے مجھ کو
تو نہ امید توڑ پائے گی
غم نے ہنسنا ہنسانا سیکھ لیا
اب اداسی بھی مسکرائے گی
جو نہ رویا کبھی جدائی میں
اب اسے بات کیا رلائے گی
بھول سکتا ہوں سال بھر تجھ کو
عید تو عید ہے ستائے گی
زندگی کا ہے یہ چلن ابرکؔ
آزماتی ہے آزمائے گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.