Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے

افق لکھنوی

ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے

افق لکھنوی

MORE BYافق لکھنوی

    ہمارے زخم میں ٹھنڈک لہو سے ہوتی رہتی ہے

    تسلی دل کی تکلیف رفو سے ہوتی رہتی ہے

    زمانہ قدرداں ہوتا ہے صورت اور سیرت کا

    گلوں کی قدر جیسے رنگ و بو سے ہوتی رہتی ہے

    نہیں تکلیف سے خالی کسی کا پھولنا پھلنا

    شجر پر سنگ باری چار سو سے ہوتی رہتی ہے

    جو میں آپ آپ کہتا ہوں حقارت وہ سمجھتے ہیں

    مری عزت فزائی لفظ تو سے ہوتی رہتی ہے

    قناعت کرتی رہتی ہے جو سیپی ابر نیساں پر

    بسر در عدن کی آبرو سے ہوتی رہتی ہے

    ہے مجھ پر مہربانی اس قدر تکلیف زنداں کی

    کہ خم گردن مری طوق گلو سے ہوتی رہتی ہے

    میان میکدہ جب دیر تک ساقی نہیں ملتا

    تشفی رند کی جام و سبو سے ہوتی رہتی ہے

    افقؔ کی مے کشی کی حافظ شیراز کی صورت

    زمانے بھر میں شہرت لکھنؤ سے ہوتی رہتی ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے