ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں (ردیف .. ے)
ہے وصل ہجر عالم تمکین و ضبط میں
معشوق شوخ و عاشق دیوانہ چاہیے
اس لب سے مل ہی جائے گا بوسہ کبھی تو ہاں
شوق فضول و جرأت رندانہ چاہیے
عاشق نقاب جلوۂ جانانہ چاہیے
فانوس شمع کو پر پروانہ چاہیے
پیدا کریں دماغ تماشائے سرو و گل
حسرت کشوں کو ساغر و مینا نہ چاہیے
دیوانگاں ہیں حامل راز نہان عشق
اے بے تمیز گنج کو ویرانہ چاہیے
ساقی بہار موسم گل ہے سرور بخش
پیماں سے ہم گزر گئے پیمانہ چاہیے
جادہ ہے یار کی روش گفتگو اسدؔ
یاں جز فسوں نہیں اگر افسانہ چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.