بیسویں صدی کے طلوع ہونے سے قبل برصغیر ہند کے ادبی اور سماجی افق پر سرسید احمد خاں کی تحریک نے ایک گہرا اور انمٹ نقش چھوڑا۔ اس تحریک کے بطن سے ایک ثانوی ادبی تحریک نے بھی جنم لیا جس کے ساتھ مولانا الطاف حسین حالی، علامہ شبلی نعمانی، محمد حسین آزاد، اسمٰعیل میرٹھی اور ڈپٹی نذیر احمد جیسے نابغہ روزگار اکابرین کے نام وابستہ ہیں۔ اس تحریک کو بجا طور پر ایک 'اصلاحی تحریک' کہا جا سکتا ہے، لیکن اس کی اصلاح کا دائرہ کار محض روایتی اخلاقیات تک محدود نہیں تھا۔ اس کی وسعتوں میں مغربی علوم کی پیروی، سماجی انجماد کو توڑنے کی شعوری کاوش اور اسلام کے شاندار ماضی سے دوبارہ رشتہ استوار کرنے کا میلان شامل تھا۔
اس ادبی تحریک کا سب سے نمایاں پہلو اس کا دوہرا کردار تھا۔ ایک جانب یہ تحریک ہندی مسلمانوں کو مغربی علوم سے استفادہ کرنے کی تلقین کر رہی تھی اور مغرب کی جدید ادبی اصناف کو اردو میں متعارف کروانے پر مائل تھی۔ دوسری جانب، یہ اسلام کے عہدِ زریں کی سادگی، سخت کوشی اور گرم جوشی کو اپنانے پر زور دے رہی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلمان فرسودہ رسوم و رواج کی سنگلاخیت اور توہم پرستی کو ترک کریں، اپنے حجروں کی تاریکی سے باہر نکلیں اور بدلتے ہوئے زمانے کے حقائق کا جرات مندی سے سامنا کریں۔
اس تحریک کے زیرِ اثر اردو ادب میں حقیقت پسندی کا میلان غالب آیا۔ اس سے قبل اردو ادب، بالخصوص نثر اور شاعری، ایک بھاری ثقافتی بوجھ تلے دبی ہوئی تھی جس کا سب سے بڑا مظہر اس کا انتہائی آرائشی، مقفیٰ اور مسجع اسلوب تھا۔ سرسید اور ان کے رفقاء نے ادب کو اس تکلف اور تصنع سے سبکدوش کیا اور سادگی و مدعا نگاری کو رواج دیا۔ یہ ادب برائے ادب کی بجائے ادب برائے زندگی کی ایک عملی اور توانا شکل تھی۔
اپنے دور میں اس تحریک نے مسلمانوں کی نفسیات اور سماجی رویوں پر نہایت گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے۔ اس نے ایک زوال پذیر قوم کو کونوں کھدروں سے باہر نکالا، انہیں قومی سطح پر فعال کیا اور شخصی سطح پر مستعد اور باشعور بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ اس تحریک کے تحت پیدا ہونے والے ادب میں اصلاح کا جذبہ نہایت قوی اور توانا نظر آتا ہے، جس نے آنے والی صدی کے ادب کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔
